الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ جَوَازِ الرِّهْنِ فِي الْحَضَرِ
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
حدیث نمبر: 6059
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض بطورِ گروی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل وعیال کی خوراک کے لئے یہودی سے وہ جو ادھار لئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6059]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه الترمذي: 1214، والنسائي: 7/ 303، وابن ماجه: 2439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2109»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کُنْْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ} … ”اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والانہ پاؤ تو قبضہ میں رکھی ہوئی گروی ہو گی۔“ (سورۂ بقرہ: ۲۸۳) اس آیت ِ مقدسہ میں سفر میں گروی رکھنے کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گروی رکھنا سفر کے ساتھ خاص ہے، یہاں اغلبیت کے طور پر سفر کا ذکر کیا گیا، وگرنہ حضر میں بھی گروی رکھنا درست ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس حدیث سے کفار کے ساتھ ایسے معاملات کا جواز نکلتا ہے، جن کے متعلق واضح حرمت نہیں آئی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه الترمذي: 1214
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6059 in Urdu