الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الظَّهْرِ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُوْنًا
گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس کے خرچ کے عوض سواری کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6065
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جانور گروی رکھا جا ئے گا تو اس کا چارہ گروی لینے والے کے ذمہ ہو گا اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر اس کا خرچ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6065]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7125»
وضاحت: فوائد: … گروی رکھنے والے کو رَاھِن اور جس کے پاس گروی رکھی جائے، اس کو مُرْتَھِن کہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مرتہن گروی میں رکھی ہوئی سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کا خلاصہ درج ذیل ہے:
اگر گروی رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج نہ ہو، مثلا گھر، سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر سامان وغیرہ تو کسی حال میں مرتہن کے لیےیہ جائز نہ ہو گا کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے اور اگر گروی میں رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج ہو، مثلا بکری اور گھوڑا وغیرہ، تو مرتہن اپنی طرف سے اس چیز پر جتنا خرچ کرے گا، اس کے برابر اس سے فائدہ اٹھا سکے گا، جیسا کہ درج بالا احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مرتہن گروی میں رکھی ہوئی سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کا خلاصہ درج ذیل ہے:
اگر گروی رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج نہ ہو، مثلا گھر، سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر سامان وغیرہ تو کسی حال میں مرتہن کے لیےیہ جائز نہ ہو گا کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے اور اگر گروی میں رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج ہو، مثلا بکری اور گھوڑا وغیرہ، تو مرتہن اپنی طرف سے اس چیز پر جتنا خرچ کرے گا، اس کے برابر اس سے فائدہ اٹھا سکے گا، جیسا کہ درج بالا احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7125
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6065 in Urdu