🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابٌ فِي أَنَّ الْمَضْمُونَ عَنْهُ إِنَّمَا يَبْرُو بِأَدَاءِ الصَّامِنِ لَا بِمُجَرَّدِ ضَمَائِهِ
جس چیز کی ضمانت دی گئی ہو، ضامن اس کی ادائیگی سے ہی بری ہو گی، نہ کہ¤صرف ضمانت اٹھانے سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6069
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَقُلْنَا تُصَلِّي عَلَيْهِ فَخَطَا خُطًى ثُمَّ قَالَ أَعَلَيْهِ دَيْنٌ قُلْنَا دِينَارَانِ فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهَا أَبُو قَتَادَةَ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الدِّينَارَانِ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقَّ الْغَرِيمَ وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ قَالَ نَعَمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ فَقَالَ إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ قَالَ فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ قَدْ قَضَيْتُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا، پس ہم نے اسے غسل دیا اور خوشبو لگائی، پھر ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نمازجنازہ ادا فرمائیں۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، آپ چند قدم چل کررک گئے اور فرمایا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، دودینار ہیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو واپس چل پڑے،پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی اور ہم دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے دودیناروں کی ذمہ داری لے لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اب قر ض خواہ تجھ سے یہ حق طلب کرے گا اور میت اس سے بری ہو گئی ہے؟ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نمازجنازہ ادا کی۔ ایک دن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ دیناروں کا کیا بنا؟ سیدناابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابھی کل تو وہ فوت ہوا ہے، پھر وہ لوٹے اور اگلے دن ان کی ادائیگی کر کے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان کو ادا کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحوالة والضمان/حدیث: 6069]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14590»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث واضح دلالت کرتی ہے کہ میت کا قرض کوئی اپنے ذمہ لے تو اسے جلدی ادا کردیناچاہیے اور ذمہ لینے کے باوجود میت پر اس وقت تک بوجھ رہتا ہے، جب تک اس کی جانب سے ادانہ کردیاجائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3343


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6069 in Urdu