الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي ذَمِّ الْوَسْوَسَةِ وَكَرَاهَةِ الْإِسْرَافِ فِي مَاءِ الْوُضُوءِ
وسوسے کی مذمت اور وضو کے پانی میں اسراف کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 609
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ؟) ) قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيّ بن عبد الله المعافري۔ أخرجه ابن ماجه: 425، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7065»
وضاحت: فوائد: … اگلے ابواب میں وضو کا مکمل طریقہ بیان کیا جائے گا، اعضاء کو تین سے زیادہ بار دھونے کی اجازت نہیں ہے اور طہارت کے سلسلے میں وسوسوں سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے، وگرنہ شیطان کئی مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيّ بن عبد الله المعافري۔ أخرجه ابن ماجه: 425
Al-Fath al-Rabbani Hadith 609 in Urdu