الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا يَجُوزُ التَّوْكِيلُ فِيهِ
مشارکت اور مضاربت کے مسائل
حدیث نمبر: 6097
عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا شَرِيكَيْنِ فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ وَنَسِيئَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمَا أَنَّ مَا كَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِيزُوهُ وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ فَرُدُّوهُ
۔ ابومنہال سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم اور سیدنا بر اء بن عاز ب رضی اللہ عنہما دونوں آپس میں شراکت کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، ایک دفعہ انہوں نے چاندی خریدی، اس کی کچھ مقدار نقدتھی اور کچھ ادھار، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو سودانقد ونقد ہواہے، اس کو برقرار رکھا جائے اور جو ادھار پر ہوا ہے، اس کو واپس کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6097]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2060، 3939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19522»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس نمبر (۵۹۷۵) میں گزر چکی ہے، اس باب میں اس کو بیان کرنے سے مقصود مشارکت کو ثابت کرنا ہے کہ دو چار بندے ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر کاروبار کر سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2060
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6097 in Urdu