🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى المساقاة والمزارعة
مساقات اور مزارعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6104
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز سے جلاوطن کیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے علاقے پرقابض ہوئے تو وہاں سے یہودیوں کو نکال دینے کا ارادہ کیا، کیونکہ فتح کے بعد وہ زمین اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اس شرط پر ہمیں ہی یہاں ٹھہرنے دیا جائے کہ ہم نصف پھل کے عوض محنت کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ہم جب تک چاہیں گے، تم کویہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی جانب جلا وطن کردیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6104]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2338، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6368»
وضاحت: فوائد: … یہ مزارعت کے جواز کی دلیل ہے، لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ مالک کل پیدوار کا کچھ حصہ اپنے لیے مقرر کرے اور کچھ مزارعین کے لیے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2338


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6104 in Urdu