🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى الْجَوَاز بِالْجَمِيعَ وَحَمَلَ النَّهَى عَلَى كَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی¤پر محمول کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6131
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ قَدِ اقْتَتَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ قَالَ فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَهُ لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ
۔ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، میں اس حدیث ِ مبارکہ کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں، اصل بات یہ تھی کہ جب دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر جھگڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرتمہاری یہ صورت حال ہے تو پھر زمینیں کرائے پر ہی نہ دیاکر و۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف یہ الفاظ سنے تھے کہ زمینوں کو کرائے پر نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6131]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21966»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں مذکورہ احادیث کے انداز سے پتہ چلتا ہے کہ مصلحتاً زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ زمین کو کرائے پر دینے سے متعلقہ پچھلے چند ابواب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ کا خلاصہ درج ذیل ہے: بہتر یہ ہے کہ زمین کرائے پر نہ دی جائے، بلکہ کسی مسلمان بھائی کو بغیر کسی معاوضہ کے کاشت کرنے کے لیے دے دی جائے۔ درہم و دیناریعنی نقدی کے عوض زمین کو ٹھیکے پر دینا جائز ہے، جیسا کہ آج کل پاکستان کے نہری علاقے میں ہوتا ہے۔ زمین کو اس کی کل پیداوار کے بعض معین حصے پر کرائے پر دینا جائز ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ کیا تھا، آج کل یہ طریقہ پاکستان کے بارانی علاقوں میں اپنایا جاتا ہے۔ زمین کو اس طرح کرائے پر دینا منع ہے کہ اس کے بعض حصے کو مالک کے لیے اور بعض حصے کو مُزَارِع کے لیے خاص کر دیا جائے، کیونکہ اس میں فریقین میں سے ایک کے نقصان کا امکان ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1550


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6131 in Urdu