الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بابُ مَا جَاءَ فِي الْأُجْرَةِ عَلَى الْقُرَبِ
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6141
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب الإجارة/حدیث: 6141]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2595،و البزار: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15620»
وضاحت: فوائد: … آخری دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں اعتدال اختیار کیا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے، نہ اس طرح ہونے پائے کہ آدمی اس کی تلاوت سے دور ہو جائے اور نہ یہ صورت صحیح ہے کہ آدمی غلوّ کرتے ہوئے اس کی حدود سے تجاوز شروع کر دے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2595
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6141 in Urdu