الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى ضمان الوديعة والعارية
ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان
حدیث نمبر: 6157
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَةِ عَامِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْعَارِيَّةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار! عاریہ (عارضی طور پر لی ہوئی چیز) واپس کی جائے گی، مِنْحَہ (وہ عطیہ جو استفادہ کے لیے کچھ مدت کے لیے دیا جائےوہ) بھی واپس کیا جائے گا، قرضہ چکایا جائے گا اور چیز کا ضامن اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوديعة والعارية/حدیث: 6157]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2870، 3565، وابن ماجه: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22650»
وضاحت: فوائد: … ”عَارِیَۃٌ مَؤَدَّاۃٌ“ اس چیز کو کہتے ہیں جو عارضی طور پر لی گئی ہو اور اس کے وقت تک اس کو واپس کرنا ضروری ہو، جب تک وہ باقی ہو، اگر ضائع ہو جائے تو اس کے عوض میں قیمت ادا نہیں کی جاتی اور ”عَارِیَۃٌ مَضْمُوْنَۃٌ“ اس چیز کو کہتے ہیں جو عارضی طور پر لی گئی ہو اس کو واپس کرنا ضروری ہو، اگر وہ تلف ہو جائے تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2870
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6157 in Urdu