🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الحمى لدوات بيت المال
بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6185
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ وَقَالَ لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6185]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2370 دون قوله: ’’حمي النقيع‘‘ لكن زاد البخاري وقال: بلغنا ان النبيV حمي النقيع، فھذه الزيادة من بلاغات الزھري، لكنھا صحيحة بالحديثين السابقين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16780»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔
دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسا کرتے رہے ہیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2370 دون قوله: ’’حمي النقيع‘‘ لكن زاد البخاري وقال: بلغنا ان النبيV حمي النقيع


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6185 in Urdu