🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب النهي عن جده وهزله ووعيد من اختصب مال أخيه
جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْمَلْنَا وَأَنْفَضْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ وَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ ثُمَّ قَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا وَلَا تَحْمِلُوا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے،ہوا یوں کہ ہمارا زادِ راہ ختم ہوگیا اور ہم محتاج ہو گئے، اتنے میں ہمارا گزر ایسی اونٹنیوں کے پاس سے ہواکہ جن کے تھن درخت کے چھلکوں سے بندھے ہوئے تھے، لوگ ان کو دوہنے کے لیے ان کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ یہ مسلمانوں میں سے کسی خاندان کی خوراک ہو، بھلا کیا تم یہ پسند کرو گے کہ یہ لوگ آ کر تمہارے زاد راہ لے جائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے لیے کوئی اور چارۂ کار نہیں ہے تو پھر یہیں پیلو اور اپنے ساتھ اٹھا کر نہ لے جاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6193]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9241»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے متعلقہ مزید درج ذیل احادیث پر غور کریں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ حَائِطًا فَاَرَادَ اَنْ یَّاْکُلَ فَلْیُنَادِ: یَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، ثَلَاثًا، فَاِنْ اَجَابَہٗ،وَاِلَّافَلْیَأْکُلْ، وَاِذَا مَرَّ اَحَدُکُمْ بِاِبِلٍ، فَأَرَادَ اَنْ یَّشْرَبَ مِنْ اَلْبَانِھَا فَلْیُنَادِ: یَا صَاحِبَ الْاِبِلِ، یَا رَاعِیَ الْاِبِلِ، فَاِنْ اَجَابَہٗ،وَاِلَّافَلْیَشْرَبْ۔)) … جب تم میں سے کوئی آدمی کسی باغ میں آئے اور وہاں سے کچھ کھانا چاہے تو وہ تین دفعہ آواز دے: اے باغ والے، اگر وہ اس کو جواب دے دے تو ٹھیک، وگرنہ وہ وہاں سے کھا لے، اسی طرح اگر کوئی آدمی اونٹوں کے پاس سے گزرے اور ان کا دودھ پینا چاہے تو وہ آواز دے: اے اونٹوں والے! اے اونٹوں کے چرواہے! اگر جواب آ جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ دودھ پی لے۔ (مسند احمد: ۳/ ۸)
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی کے جانوروں کے پاس سے گزرے، اگر ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دے دے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر ان میں کوئی آدمی موجود نہ ہو تو وہ تین بار آواز دے، اگر کوئی آدمی جواب دے تو اجازت طلب کرلے اور اگر کوئی جواب نہ دے تو وہ دودھ دوہ کر پی لے، لیکن ساتھ اٹھا کر نہ لے جائے۔ (ابوداود: ۲۶۱۹، ترمذی: ۱۲۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں اور ان کھجوروں کے بارے میں سوال کیا گیا، جو شاخوں سے اتار لی جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَخَذَ بَفَمِہٖ،وَلَمْیَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہٗمَرَّتَیْنِ وَ ضَرْبًا وَنَکَالًا۔)) … جس نے وہیں کچھ کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہیں لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گی اور جو پھل اٹھا کر لے گیا تو اس کو اس کا دو گنا جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور اس کو زد و کوب بھی کیا جائے گا۔ (ابو داود: ۱۷۱۰، نسائی: ۸/ ۸۵)
اس طرح اس موضوع سے متعلقہ یہ مختلف احادیث ہیں، اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ مسلمان کے مال کی بڑی حرمت ہے اور بغیر اجازت کے اس کو چھیڑا نہیں جا سکتا، اس معاملے میں چھوٹی اور بڑی چیز میں کوئی فرق نہیں ہے، لیکن فوائد میں مذکورہ تین احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر باغ کا پھل کھایا جا سکتا ہے اور مویشیوں کا دودھ دوہا جا سکتا ہے۔ تو گزارش یہ ہے کہ اصل قانون تو یہی ہے کہ ایک مسلمان کا مال اس کی اجازت کے بغیر دوسرے پر حرام ہے، لیکن احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں جس جس چیز کو مستثنی کیا جائے گا، اس کا جواز ملتا جائے گا اور ان شرعی قوانین کی روشنی میں مالک کو بھی دوسرے مسلمان کا یہ حق تسلیم کرنا پڑے گا، آپ خود غور کریں کہ جب پھل کو کھلیان میں جمع کر دیا جائے تو کسی مسلمان کو مالک کی اجازت کے بغیر وہاں سے کچھ بھی لینے کی اجازت نہیں ہے، لیکن اگر ابھی تک پھل باغ میں ہے تو محتاج کو وہاں سے کھا لینے کی اجازت ہے، لیکن ساتھ اٹھا کر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، اسی قسم کا معاملہ مویشیوں کا ہے کہ کسی جانور کو ذبح نہیں کیا جا سکتا ہے، البتہ محتاج کو تین بار آواز دینے کے بعد یہ حق حاصل ہے کہ وہ دودھ دوہ کر پی لے، لیکن اٹھا کر ساتھ نہ لے جائے۔ مسلمانوں کی سخت حاجات و ضروریات کے پیش نظر شریعت ِ مطہرہ نے مذکورہ بالا صورتوں میں اجازت کے بغیر دوسرے مسلمان کا مال لینے کی اجازت دی ہے۔

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2303


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6193 in Urdu