🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں¤کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6211
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّ هَا هُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا فَأُتِيَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ قُلْتُ آكُلُ قَالَ فَلَا تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مَا سَقَطَ فِي أَسَافِلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ
۔ سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک انصاری کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ لڑکا کھجوروں پر پتھر مار رہا ہے، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے لڑکے! تو کھجوروں پر پتھر کیوں پھینک رہا تھا؟ میں نے کہا: جی میں کھانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں کو پتھر نہ مارنا، البتہ جو کھجوریں نیچے گری پڑی ہوں، وہ کھا لیا کر۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6211]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2622، وابن ماجه: 2299، والترمذي: 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20609»
وضاحت: فوائد: … اگر اس حدیث کو پچھلی احادیث کی روشنی میں سمجھا جائے تو اس کا معنییہ ہو گا کہ اگر کوئی مجبور ہو اور باغ میں کھجوریں گری پڑی بھی ہوں اور درخت پر بھی لگی ہوں تو مجبور کو چاہیے کہ وہ گری پڑی ہوئی کھا لے، اگر گری ہوئی نہ ہوں تو پھر درخت سے اتار لے۔ نیز اس حدیث کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ عام طور پر گری پڑی چیز کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عادت کے مطابق بچے کو گری ہوئی کھجوریں کھا لینے کی اجازت دی۔

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2622


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6211 in Urdu