🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَاب دَفْعِ الصَّائِلِ وَإِنْ أَذًى إِلَى قَتْلِهِ وَأَنَّ الْمَصُولَ عَلَيْهِ يُقْتَلُ شَهِيدًا
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ¤قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6217
عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ أَتَانِي رَجُلٌ يَأْخُذُ مَالِي قَالَ تُذَكِّرُهُ بِاللَّهِ تَعَالَى قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ذَكَّرْتُهُ بِاللَّهِ فَلَمْ يَنْتَهِ قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ مِنِّي نَائِيًا قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالْمُسْلِمِينَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَعَجِلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ حَتَّى تَحُوزَ مَالَكَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَكُونَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ
۔ سیدنا مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا،اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6217]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22881»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بڑی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں کہ جو آدمی کسی کا مال چھیننا چاہے یا اس کو قتل کرنا چاہے تو اس کو اللہ تعالی کا واسطہ دیا جائے اور وعظ و نصیحت کی جائے، ممکن ہے کہ اس سے اس پر اثر ہو جائے اور وہ اپنے ناپاک ارادے سے باز آ جائے، اگر یہ طریقہ بے فائدہ ثابت ہو تو کسی طریقے سے حکمران کو اطلاع دی جائے، بصورت ِ دیگر عام مسلمانوں کو مدد کے لیے پکارا جائے، اگر تینوں صورتیں کارگر ثابت نہ ہوں تو پھر لڑائی کے ذریعے اپنا دفاع کیا جائے، اگر مظلوم قتل ہو گیا تو وہ حکماً شہید ہو گا، یعنی آخرت میں اس کو شہید سمجھا جائے گا، لیکن دنیا میں اس کو عام میت کی طرح غسل دے کر کفن دیا جائے گا اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 113


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6217 in Urdu