الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَاب دَفْعِ الصَّائِلِ وَإِنْ أَذًى إِلَى قَتْلِهِ وَأَنَّ الْمَصُولَ عَلَيْهِ يُقْتَلُ شَهِيدًا
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ¤قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
حدیث نمبر: 6219
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَةٍ فَهُوَ شَهِيدٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم کے خلاف مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6219]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2779»
وضاحت: فوائد: … بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ اگر مال کی مقدار کم ہو تو دفاعی مقابلہ کرنے سے بچنا چاہیے، اگرچہ نصوص عام ہیں اور ان میں کم یا زیادہ مقدار کا تعین نہیں کیا گیا، لیکن اگر خفیف مفسدت کو اختیار کر لیے جانے والا قانون دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ کم مقدار مال کے چھن جانے پر صبر کیا جائے اور جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
اسی طرح اگر مال کو چھیننے کا ظلم حکمران کی طرف سے ہو تو پھر بھی صبر کرنا چاہیے۔
اسی طرح اگر مال کو چھیننے کا ظلم حکمران کی طرف سے ہو تو پھر بھی صبر کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6219 in Urdu