الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء فى عدم قبول هدية المشركين
مشرکوں کے تحائف قبول نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6280
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعْرِفَةٌ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً قَالَ أَحْسِبُهَا إِبِلًا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ قُلْتُ مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ رِفْدُهُمْ هَدِيَّتُهُمْ
۔ حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ عیاض بن حماد مجاشعی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان بعثت سے پہلے جان پہچان تھی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت ملی تو عیاض نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک تحفہ دیا، میرا خیال ہے کہ وہ اونٹ کی صورت میں تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اورفرمایا: ہم مشرکوں کاہدیہ قبول نہیں کرتے۔ میں ابن عون نے کہا: مشرکوں کے زَبْد سے کیا مراد ہے؟ حسن بصری نے کہا: ان کے تحفے اور عطیے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6280]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3057، والترمذي: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17621»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3057
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6280 in Urdu