الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْسِيمِ الْهَدِيَّةِ فِي الْأَهْلِ وَالْأَصْحَابِ ومن حَضَرَ
ہدیہ کو اہل و عیال، دوستوں اور حاضرین میں تقسیم کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6285
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا سَيَّارٌ وَأَخْبرَنَا مُغِيرَةُ أَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا قَالَ فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ هَذَا جَوْرٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَقَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے ہبہ دیا، ایک راوی کے بیان کے مطابق وہ غلام تھا۔میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے والد سے کہا:تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اوراس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناؤ، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی اورکہا: میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری اولاد ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سب کو وہ چیز دی ہے، جو نعمان کو دی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے، جو تیری بیوی کے دباؤ کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، جاؤ اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ۔ مغیرہ نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تیری ساری اولاد نیکی اور مہربانی میں تیرے ساتھ برابر برابر پیش آئیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور کسی اور کو گواہ بنا لو، بیشک ان کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو ان کے مابین انصاف اور برابری کرے، جیسا کہ ان پر تیرایہ حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6285]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2650، ومسلم: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18568»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب والدین اپنی اولاد کو عطیہ دیں گے تو بیٹی اور بیٹے کو برابر برابر دیں گے، یہاں میراث کا قانون نہیں چلے گا کہ بیٹے کو دو گنا اور بیٹی کو ایک گنا دیا جائے، کیونکہ ”وَلَد“ کا اطلاق بیٹے اور بیٹی دونوں پر ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2650
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6285 in Urdu