الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَاب جَوَازِ تَبَرُّعَاتِ الْمَرِيضِ مِنَ التَّلْثِ فَأَقَلَّ وَمَنْعِهِ مِنَ الرِّيَادَةِ عَلَيْهِ
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور¤اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6326
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ كَثِيرٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ لوگ ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا اختیار کر لیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے فرمایا تھا: تیسرے حصے کی وصیت کرنا بھی زیادہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6326]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2034»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے رشتہ داروں کے حقوق کا اندازہ کر لینا چاہیے، بعض بے اولاد سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کے بارے میں اس وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس سرمائے کو فلاں فلاں آدمیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ مقدار اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیں، کچھ مقدار کے بارے میں وصیت کر دیں اور باقی ترکہ کو اللہ تعالی کے حکم پر راضی ہو کر وارثوں میں تقسیم ہونے دیں، اس مقام پر ان کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے، وگرنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ آدمی اللہ تعالی کے احکام کو ناپسند کر رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1629
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6326 in Urdu