الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ أَنَّ دِيَةَ الْمَقْتُولِ لِجَمِيعِ وَرَتَيْهِ، وَمَا جَاءَ فِي ميرَاتِ الْحَمْلِ بَعْدَ وَضْعِهِ إِنِ اسْتَهَلَّ
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
حدیث نمبر: 6343
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہ یہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6343]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15837»
وضاحت: فوائد: … خاوند بحیثیت ِ خاوند اپنی بیوی کا عصبہ نہیں ہوتا، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چاہاکہ مقتولہ کی دیت میں سے خاوند کو کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ قاتل کی دیت ادا کرنے والے عصبہ ہوتے ہیں، لیکن جب ان کو حدیث ِ مبارکہ کا علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ بیوی کی دیت میںسے اس کے خاوند کو اس کا حصہ دیا تھا، تو انھوں نے اپنے ارادے کو ترک کر دیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15837
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6343 in Urdu