الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بابُ فِي أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ علیہم السلام لِيْ لَا يُورَثُونَ
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
حدیث نمبر: 6351
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِهِ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
۔ سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم کے آسرے پر آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ان سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6730، ومسلم: 1758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1550»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ انبیائے کرام hکا ترکہ ان کے ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا، وہ سارے کا سارا از خود صدقہ ہو جاتا ہے، البتہ اس ترکہ میں سے ان افراد کی کفالت کی جائے گی، جن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفیل تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6730
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6351 in Urdu