الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء فى ميرات الجنة والجدات
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 6359
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَتْهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لَهَا السُّدُسَ فَقَالَ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ مَنْ يَعْلَمُ مَعَكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا
۔ سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جدہ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کامطالبہ کیا، لیکن انہوں نے کہا: میں اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں تو کوئی ایسی دلیل نہیں جانتا تو تیرے حق میں ہو، البتہ میں اس بارے میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدہ کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر تیرے ساتھ کون گواہی دے گا، پس سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کی، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیےیہ حصہ نافذ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6359]
تخریج الحدیث: «الحديث صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 2894، والترمذي: 2101، وابن ماجه: 2724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18143»
وضاحت: فوائد: … عربی زبان میں دادی اور نانی دونوںکو ”جَدَّۃ“ کہتے ہیں، علم میراث میں”جَدَّۃ“کی دو قسمیں ہیں: (۱)جدہ صحیحہ اور (۲) جدہ فاسدہ، صرف اول الذکر یعنی جدہ صحیحہ وارث بن سکتی ہے۔
جدہ صحیحہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسد نہ آئے۔مثلا: نانی، دادی، پڑدادی
جدہ فاسدہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسدآ جائے۔ مثلانانے کی ماں۔ اگلے باب کے شروع میں جد فاسد کی وضاحت دیکھیں۔
جدہ صحیحہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسد نہ آئے۔مثلا: نانی، دادی، پڑدادی
جدہ فاسدہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسدآ جائے۔ مثلانانے کی ماں۔ اگلے باب کے شروع میں جد فاسد کی وضاحت دیکھیں۔
الحكم على الحديث: الحديث صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 2894
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6359 in Urdu