الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب الميرات بالولاء
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
حدیث نمبر: 6382
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَاءَ بَنُو مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ) ) فَقَضَى لَنَا بِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ (شام سے) واپس آئے تو معمر بن حبیب کے بیٹے ان کے پاس آکر اپنی بہن کی ولاء کے بارے میں جھگڑنے لگے، مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا اور انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد یا والدین جس مال کا احاطہ کر لیں، وہ ان کے عصبہ کو ملے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث کی روشنی میں ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6382]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2917، وابن ماجه: 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 183»
وضاحت: فوائد: … اس کا پس منظر یہ ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ام وائل سے شادی کی، اس سے تین بچے پیدا ہوئے، پھر ام وائل وفات پاگئی، اس کے بیٹے اس کے وارث تھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان کو لے کر شام چلے گئے، جہاں وہ طاعون کی وجہ سے فوت ہوگئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ان کے عصبہ کی حیثیت سے ان کے وارث ہوئے، جب اس متوفی خاتون کے قبیلہ والے دعویٰ لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت پہ پہنچے تو تب انھوں نے اس حدیث کی روشنی میں فیصلہ کیا اور عصبہ کی حیثیت سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو مستحق قرار دیا۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2917
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6382 in Urdu