الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي القَاضِي يُصِيبُ وَيُخْطِى ، وَأَجْرُ الْقَاضِي الْمُجْتَهِدِ وَكَيْفَ يَقْضِى
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 6386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِعَمْرٍو: ( (اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا عَمْرُو!) ) فَقَالَ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (وَإِنْ كَانَ) ) قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي؟ قَالَ: ( (إِذَا أَنْتَ قَضَيْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ) )
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی آپس کا ایک جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عمرو!ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس امر کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں ہوں۔ میں نے کہا: اگر میں ان کے ما بین فیصلہ کروں تومجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے فیصلہ کیا اور درست صورت تک پہنچ گئے تو دس نیکیاں ملیں گی اوراگر اجتہاد میں خطا اور غلطی ہو گئی تو ایک نیکی ملے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6386]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الفرج بن فضالة ضعيف، محمد بن عبد الاعلي و أبوه لا يعرفان۔ أخرجه الدارقطني: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17978»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۳۸۹)، اس باب کی پہلی تین احادیث سے کفایت کرتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6386 in Urdu