🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب النهي عن الحكم فى حالة الغضب
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6409
عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ابْنٍ لَهُ وَكَانَ قَاضِيًا بِسِجِسْتَانَ: أَمَّا بَعْدُ، فَلَا تَحْكُمَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَحْكُمُ أَحَدٌ (وَفِي لَفْظٍ: لَا يَقْضِي الْحَاكِمُ) بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ) )
۔ ابن ابی بکرہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے، جو کہ سجستان کے علاقے میں قاضی تھا، کو یہ خط لکھا: اما بعد! جب تو غصہ کی حالت میں ہو تو دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی یا کوئی حاکم غصے کی حالت میں دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20741»
وضاحت: فوائد: … دو یا زائد افراد یا فریقوں کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے صبر و تحمل کی اشد ضرورت ہے، بلکہ یہ صفت تو قاضی اور حاکم کا زیور ہے، غیظ و غضب کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ ظالم فرد یا فریق کے ظلم کی نوعیت کو دیکھ اس کے سامنے غصے کا اظہار کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، لیکن فیصلہ کرتے وقت حاکم کو غصے کی حالت میں نہیں ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6409 in Urdu