الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ نَهْي الشَّاهِدِ عَنْ كِتْمَانِ الْحَقِّ خَشْيَةَ النَّاسِ وَمَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْحِسْبَةِ
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 6432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَا شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین گواہی وہ ہے جو گواہ مطالبے سے پہلے خود ہی پیش کردے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6432]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22013»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں جس شہادت کو بہتر قرار دیا ہے، اس کے دو محل ہیں:
(۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
(۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22013
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6432 in Urdu