الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابٌ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاسْتِثْنَارِ
کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 646
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: ( (إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا) )
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو مکمل وضو کر، انگلیوں میں خلال کر اور جب تو ناک میں پانی چڑھائے تو اس میں مبالغہ کر، الا یہ کہ تو روزے دار ہو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2366، والترمذي: 788، وابن ماجه: 407، و النسائي: 1/ 66، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16497»
وضاحت: فوائد: … ناک میں مبالغہ کے ساتھ پانی چڑھانے سے بعض دفعہ پانی کے قطرے حلق میں اتر آتے ہیں، اس وجہ سے روزے دار کو اس سلسلے میں مبالغہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2366
Al-Fath al-Rabbani Hadith 646 in Urdu