الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابٌ فِي غَسْلِ الْوَجْهِ وَتَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ وَتَعَاهُدِ الْمَاقَيْنِ
چہرے کو دھونے، داڑھی کا خلال کرنے اور ناک سے ملے ہوئے گوشۂ چشم کا خیال رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 650
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 1/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26497»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضوء کرتے تو ایک چلو پانی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرکے داڑھی کا خلال کرتے اورفرماتے: ((ھٰکَذَا اَمَرَنِیْ رَبِّیْ۔)) … مجھے میرے رب نے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔ (ابوداود:۱۴۵، مستدرک حاکم:۱/۱۴۹ یہ حدیث متعدد شواہد کی بناء پر حسن لغیرہ ہے) حسان بن بلال کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور داڑھی کا خلال کیا، پس میں نے کہا: کیا تم داڑھی کا خلال کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اور کون سی چیز مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابن ماجہ: ۲۹) سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے۔ (ترمذی: ۳۱) ثابت ہوا کہ داڑھی کے بارے میں سنت یہ ہے کہ وضو میں اس کا خلال کیا جائے، اس کاطریقہ یہ ہے کہ پانی کا ایک چلو ٹھوڑی کے نیچے داڑھی کے بالوں میں داخل کر کے داڑھی کے بالوں میں ایک ہاتھ کی انگلیاں پھیر دی جائیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 1/ 150
Al-Fath al-Rabbani Hadith 650 in Urdu