الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ النَّهْي عَنْ قَتْلِ الْحَيَوَانِ أَوِ الْإِنْسَانِ صَبْرًا أَوْ بِشَيْءٍ فِيْهِ تَعْذِيْبٌ وَعَنِ التَّمْثِيْلِ بِهِ
حیوان یا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6537
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ: ( (أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ؟) ) قَالَ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ فَأَكْثَرَ وَأَطْيَبَ، قَالَ: ( (فَتُنْتِجُهَا وَافِيَةً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ فَتَقُولُ صَرْمَاءَ (ثُمَّ تَكَلَّمَ سُفْيَانُ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا) وَتَقُولُ بَحِيرَةَ اللَّهِ فَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ، وَمُوسَاهُ أَحَدُّ، وَلَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ آتَاكَ) ) قُلْتُ: إِلَى مَا تَدْعُو؟ قَالَ: ( (إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ) ) الحَدِيثُ
۔ ابو احوص اپنے باپ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اوپر سے نیچے تک بغو ر دیکھا اور فرمایا: تم اونٹوں کے مالک ہو یا بکریوں کے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے مال سے نواز رکھاہے، بہت زیادہ اور عمدہ مال دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جانور پوری آنکھوں اور کانوں والے بچے جنم دیتے ہیں اور تم لوگ ان کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہو اور پھر ان کو کان کٹے کا نام دے دیتے ہو اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہو کہ یہ اللہ کا بحیرہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کا بازو بہت طاقتور ہے اور اس کا استرابہت تیز دھار ہے، اگر اس نے تجھے کان کٹا جانور دینا چاہا تو وہ دے دے گا۔ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اور صلہ رحمی کی طرف۔ الحدیث [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6537]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17360»
وضاحت: فوائد: … کان کاٹ کر چھوڑی ہوئی اونٹنی کو ”بَحِیْرَہ“ کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 11
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6537 in Urdu