🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ لَا يُقْتَلُ مُسْلَمُ بِكَافِرٍ ، وَمَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحُرِ بالعبد
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے¤بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6552
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَمَنْ أَخْصَى عَبْدَهُ أَخْصَيْنَاهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم قصاصاً اس کو خصی کریں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6552]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو امية شيخ مجھول لم نتبينه، وفيه الحسن البصري مدلس ولم يسمع ھذا الحديث من سمرة۔ انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20461»
وضاحت: فوائد: … مالک یا آزاد سے غلام کا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
اس موضوع سے متعلقہ واضح روایات تو ضعیف ہیں اور غلام کے حقوق کم ہونے کی وجہ سے اس مسئلے پر مختلف جہات سے بحثیں بھی بہت زیادہ کی گئی ہیں، ہم اس رائے کے قائل ہیں کہ اگر غلام مسلمان ہے تو قصاص والے معاملات میں آقا کے مقابلے میں اس کی حیثیت بھی مسلم ہو گی،یعنی غلام کو قتل کرنے والے مالک سے قصاص لیا جائے گا، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر(۶۵۴۹) ہے، اس حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ۔)) … ”مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں۔“ امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیاہے: ”باب القود بین الاحرار و الممالیک فی النفس“ (آزاد اور غلام کے درمیان قصاص کا بیان) یہی مؤقف سعید بن مسیّب، ابراہیم نخعی، قتادہ، سفیان ثوری اور ابو حنیفہj کا تھا، شیخ الاسلام ابن تیمیہi نے بھی اسی مؤقف کو ترجیح دی ہے، اس کے برعکس اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن اول الذکر مسلک راجح نظر آتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6552 in Urdu