الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ عَضَ يَدَ رَجُلٍ فَانتَزعَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتهُ
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
حدیث نمبر: 6571
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر یعنی غزوۂ تبوک میں شریک ہوا، یہ غزوہ میرے ان اعمال میں سے ہے، جن پر مجھے سب سے زیادہ اعتماد ہے، میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک آدمی سے لڑپڑا، ان میں سے ایک نے دوسرے کو کاٹا، دوسرے نے اپنی انگلی کھینچی، جس سے اس کادانت گرگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیئے رکھتا اور تو سانڈ کی طرح اس کو چباتا رہتا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2265، ومسلم: 1674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18129»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2265
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6571 in Urdu