الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَنْ لا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ وَمَا جَاءَ فِي دَرْء الحدود بالشُّبُهَاتِ
ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6636
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے حد روک لی اور جس مرد نے یہ برائی کی تھی، اس پر حد قائم کی، راوی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس خاتون کے لیے مہر مقرر کیا تھا یا نہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6636]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة ثم انه لم يسمع من عبد الجبار۔ أخرجه ابن ماجه: 2598، والترمذي: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19078»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ قانون شرعی ہے اور دوسری نصوص سے ثابت ہے کہ جس مرد و زن کو گناہ والے کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، اس کو نہ اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ گنہگار ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة ثم انه لم يسمع من عبد الجبار۔ أخرجه ابن ماجه: 2598
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6636 in Urdu