🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ماجاء في النفير مِنَ الزَّنَا وَوَعِيدِ فَاعِلِهِ لا سِيَمَا بِحَلِيلَةِ الْجَارِ وَالْمُغِيبة
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6650
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا قَالُوا حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ قَالَ فَمَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ قَالُوا حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ قَالَ لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ
۔ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6650]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 605، وفي ’’الاوسط‘‘: 6329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24355»
وضاحت: فوائد: … پڑوسی کو اپنے پڑوسی پر حسن ظن ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا پڑوسی اس کی عزتوں کا محافظ ہے، اُدھر اللہ تعالی اور اس کے رسول نے پڑوسی کے بہت زیادہ حقوق بیان کیے ہیں، جو آدمی ان سب حد بندیوں کو پامال کر جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جرم کو دس گنا سے بھی بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 605


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6650 in Urdu