🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَلَدِ الزَّنَا
زنا کی اولاد کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6654
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَشَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد اس وقت تینوں میں سے سب سے بدتر ہوتی ہے، جب وہ اپنے ماں باپ جیسا کام کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، فيه ابراهيم ابن اسحاق، وھو ابراهيم بن الفضل، وھو متروك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25294»
وضاحت: فوائد: … امام سفیان کہتے ہیں: … اِذَا عَمِلَ بِعَمِلِ اَبَوَیْہِ۔ … اس حدیث کو اس کے مفہوم پر اس وقت محمول کیا جائے گا جب وہ بیٹا بھی اپنے والدین والا فعل کرے گا۔ اس قول کی تائید درج ذیل مرفوع روایت سے ہوتی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّـلَاثَۃِ اِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ اَبَوَیْہِ۔)) … ”زنا کا بیٹا تین افراد میں سے ہے، جب وہ بھی اپنے والدین والی کاروائی شروع کر دے۔“ اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابو لیلی سوء حفظ کی بنا پر ضعیف ہے۔
امام البانی نے بھییہی مفہوم پسند کیا ہے۔ (صحیحہ: ۶۷۲)
لیکن فی الحقیقت زنا کی وجہ سے ہونے والی اولاد، اپنے والدین کے کیے سے بری ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلٰی وَلَدِ الْزِّنَا مِن وِزْرِ أَبَوَیْہِ شَیْئٌ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی}۔)) [فاطر:۱۸] (صحیحہ: ۲۱۸۶) ”زنا کی اولاد پر اپنے والدین کے گناہ کا کوئی وبال نہیں ہو گا، ارشادِ باری تعالی ہے: ”(اور قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“
زنا سنگین جرم ہے، لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد بے قصور ہے، ایسے بچوں کو ان کے والدین کے کئے کا کبھی بھی طعنہ نہیں دینا چاہئے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6654 in Urdu