🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ النَّهْي عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ حَائِلٍ
بغیر کسی اوٹ کے مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6676
عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا بَطَّالًا قَالَ فَمَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَهَوَيْتُ إِلَى كَشْحِهَا وَفِي لَفْظٍ أَخَذْتُ بِكَشْحِهَا فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ فَقَبَضَ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ فَقَبَضَ يَدَهُ وَقَالَ أُحِبُّكَ صَاحِبَ الْجُبَيْذَةِ يَعْنِي أَمَا إِنَّكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنِي فَوَاللَّهِ لَا أَعُودُ أَبَدًا قَالَ فَنَعَمْ إِذًا
۔ ابو شہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک بے کار سا آدمی تھا، ایک دن مدینہ منورہ کے کسی راستہ پر ایک لونڈی میرے پاس سے گزری، میں اس کے پہلو کی طرف جھکا، ایک روایت میں ہے: میں نے اس کا پہلو پکڑ لیا، اگلے دن جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آئے تو میں بھی آیا اور بیعت کے لئے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، اگلے دن پھر ایسے ہی ہوا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے، میں بھی آیا اور اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، لیکن اس بار فرمایا: میں تجھے جبیذہ والا ساتھی گمان کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ سوال تھا کہ کیا کل تو جبیذہ والا ساتھی نہیں تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے بیعت لے لیں، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی یہ جرم نہیں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ٹھیک ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6676]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 1543، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22879»
وضاحت: فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کے الفاظ ”أُحِبُّکَ“ کی اصل شکل ”أَحْسِبُکَ“ تھی، کسی کاتب سے غلطی ہو گئی ہے، ہم نے اصل لفظ کو سامنے رکھ کر ترجمہ کیا ہے۔ ”الجُبَیذۃ“ کا لفظ ”جبذ“ سے مشتق ہے اور یہ ”جذب“ کی ایک لغت ہے، جس کے معانی کھینچنے کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تو ہی وہ آدمی ہے، جو کل لونڈی کے پہلو کو پکڑ کر اس کو کھینچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو شہم کے اس جرم کی وجہ سے بیعت نہیں لی تھی، پھر جب انھوں نے توبہ تائب ہو جانے کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لے لی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 1543


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6676 in Urdu