الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ وَجَلَدِ الْبِكْرِ وَتَغْرِيبِهِ عَامًا
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک¤جلاوطن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6688
عَنِ الشَّعْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةَ جَلْدَةٍ ثُمَّ رَجَمَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقِيلَ لَهُ جَمَعْتَ عَلَيْهِ حَدَّيْنِ فَقَالَ جَلَدْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا،انھوں نے اس کو جمعرات کے دن سو کوڑے لگائے اور پھر جمعہ کے دن اس کو رجم کر دیا، کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو اس پر دو حدّیں جمع کر دیں ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے مارے ہیں اور سنت ِ رسول کی روشنی میں رجم کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6688]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابويعلي: 290، والدارقطني: 3/ 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 941»
وضاحت: فوائد: … الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا، لیکن سابق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابويعلي: 290
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6688 in Urdu