الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب فِيمَا يُذْكَرُ فِي الرُّجُوعِ عَنِ الْإِقْرَارِ وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ زَنٰي بِإِمْرَأَةٍ فَجَحَدَتْ
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
حدیث نمبر: 6712
عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6712]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7208، والدارمي: 2/ 177،، وابن ابي شيبة: 10/ 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15640»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7208
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6712 in Urdu