الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب فِيمَا يُذْكَرُ فِي الرُّجُوعِ عَنِ الْإِقْرَارِ وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ زَنٰي بِإِمْرَأَةٍ فَجَحَدَتْ
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
حدیث نمبر: 6714
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَدَعَاهَا فَسَأَلَهَا عَمَّا قَالَ فَأَنْكَرَتْ فَحَدَّهُ وَتَرَكَهَا
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6714]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 99، والحاكم: 4/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23263»
وضاحت: فوائد: … زنا کے معترف کو ہر صورت میں حد لگائی جائے گی،لیکن وہ جس پر الزام لگا رہا ہو گا،ا گر اس کی طرف سے نہ اعتراف ہو، نہ اس پر چار گواہ ہوں اور نہ حمل کی علامت ہو تو اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 99
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6714 in Urdu