🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب تأخير الحَدَ عَنِ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6719
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ وَاقِفًا إِذْ جَاءُوا بِامْرَأَةٍ حُبْلَى فَقَالَتْ إِنَّهَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتِ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ ارْجُمْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ حَتَّى أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا رَجَمْتَهَا فَقَالَ اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ جَاءَتْ فَكَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبِي فَتَطَهَّرِي مِنَ الدَّمِ فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ تَطَهَّرَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسْوَةً فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَةَ فَجِئْنَ وَشَهِدْنَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطُهْرِهَا فَأَمَرَ لَهَا بِحُفَيْرَةٍ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً مِثْلَ الْحِمَّصَةِ فَرَمَاهَا ثُمَّ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْمُسْلِمِينَ ارْمُوهَا وَإِيَّاكُمْ وَوَجْهَهَا فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِإِخْرَاجِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لَوْ قُسِمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَسِعَهُمْ
۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، وہ خچر کھڑا تھا، لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئے، اس عورت نے کہا: میں نے زنا کیا ہے، مجھے رجم کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ واپس چلی گئی، لیکن پھر آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر ہی سوار تھے،اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے رجم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ لوٹ گئی، لیکن پھر تیسری مرتبہ آ گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے،اس بار اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے رجم کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور بچہ جنم دینے کے بعد آنا۔ پس وہ بچہ جنم دےکر دوبارہ آئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات چیت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلی جا اورخون سے پاک ہو کر آنا۔ پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں پاک ہو چکی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خون کے صاف ہونے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی پاک ہو چکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینہ تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چنا کے برابر کنکری لی اور اس عورت کو ماری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا: اس پر سنگباری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ۔ پس جب وہ فوت ہوگئی تو آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اگر اس کے اجر کو اہل حجاز پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے بھی یہ کافی ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6719]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، لكن اصل القصة صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20708»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الرحمن بن ابي بكرة


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6719 in Urdu