الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَاب مَا جَاءَ فِي مَنْ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 6730
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا
۔ (دوسری سند) جس آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے برائی کر لی تھی، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس نے اس لونڈی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کے ذمہ ہے اس کی آقا کو اسی طرح کی لونڈی دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6730]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20328»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی تمام روایات ضعیف ہیں۔
تفہیم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی، بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قرار دے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں، بیوی کی لونڈی ہے، اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے، تو جب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قرار دے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو، اس لیے سزا میں تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا، مگر یاد رہے کہ اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو باکل معاف نہیں کیا جا سکتا، سزا ہلکی ہو سکتی ہے، ہاں اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کر دے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔
تفہیم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی، بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قرار دے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں، بیوی کی لونڈی ہے، اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے، تو جب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قرار دے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو، اس لیے سزا میں تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا، مگر یاد رہے کہ اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو باکل معاف نہیں کیا جا سکتا، سزا ہلکی ہو سکتی ہے، ہاں اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کر دے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20328
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6730 in Urdu