الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ حَدِ الْقَطْعِ وَغَيْرِهِ هَلْ يُسْتَوْفِي فِي دَارِ الْحَرْبِ أم لا؟
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
حدیث نمبر: 6767
عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِرُودَسَ حِينَ جَلَدَ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ قَطْعِهِمَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ وَجَدَ رَجُلًا سَرَقَ فِي الْغَزْوِ يُقَالُ لَهُ مَصْدَرٌ فَجَلَدَهُ وَلَمْ يَقْطَعْ يَدَهُ وَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ
۔ جنادہ بن ابی امیہ نے روڈس جزیرہ میں ان دو آدمیوں پر حد لگائی، جنہوں نے مال غنیمت سے چوری کی تھی اور پھر منبر پر چڑھ کر کہا:میں نے ان کے ہاتھ اس لئے نہیں کاٹے، کیونکہ میں نے سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے مصدر نامی ایک آدمی کو اس حال میں پایا کہ اس نے غزوہ کے دوران چوری کی تھی، تو انہوں نے اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹا،نیز انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں غزوہ کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع کیاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6767]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 1450، ورواه ابوداود مختصرا: 4408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17776»
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6767 in Urdu