الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ حَدِ الْقَطْعِ وَغَيْرِهِ هَلْ يُسْتَوْفِي فِي دَارِ الْحَرْبِ أم لا؟
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
حدیث نمبر: 6769
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی خاطرقریب اور دور والوں سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرو اور حضر وسفر میں اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6769]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 2850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22699 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23075»
وضاحت: فوائد: … مسافر اللہ تعالی کی حدود سے مستثنی نہیں ہے، البتہ اس باب کی پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرِ جنگ میں حد کے نفاذ میں تاخیر کی رخصت دی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6769 in Urdu