الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6784
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالأَيْدِي، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 2176، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11317»
وضاحت: فوائد: … جب شراب حرام ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن برتنوں سے منع کیا تھا، ان میں سے ایک کدو کا برتن تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام برتنوں کے استعمال کو جائز قرار دیا تھا۔ منقّی اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ ان میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6784 in Urdu