الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ حَدَ شَارِبِ الْخَمْرِ وَكَمْ يُضْرَبُ ؟ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يُضْرَبُ؟
شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا
حدیث نمبر: 6786
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ، فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ
۔ علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں کسی آدمی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا، ما سوائے شراب کی حد لگاتے ہوئے، اگر کوئی اس حد کے دوران مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حدّ کو متعین نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تحريم الخمر وحد شاربها/حدیث: 6786]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6778، ومسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1024»
وضاحت: فوائد: … دوسری حدود کی طرح شراب کی حدّ کا تعین نہیں کیا گیا، اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی اور احتیاط کا یہی تقاضا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شرابی کی حدّ مقرر نہیں تھی۔ چھڑی، جوتوں، کپڑوںسے سزا دے دی جاتی تھی، البتہ یہ بات درست ہے کہ ایک موقع پر زیادہ سے زیادہ چالیس ضربیں لگائی گئیں، اسی چیز کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کا قانون جاری رکھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ کے مشورے سے اسی (۸۰) کوڑوں تک سزا زیادہ کر دی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے بڑی دور اندیشی پر مشتمل تھی کہ شرابی تہمت اور بہتان والی باتیں کرتا ہے، اس لیے اس کو تہمت والی سزا دی جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6778
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6786 in Urdu