الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْحَثِ عَلَيْهِ وَكَرَاهَةِ تَرْكِهِ لِلْقَادِرِ
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6830
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعِنْدَهُ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ حَدِيثًا لَا أَرَاهُ حَدَّثَهُ إِلَّا مِنْ أَجْلِي كُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَبَابٌ لَا نَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ: ( (يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! …) ) . فَذَكَرَهُ.
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، جبکہ علقمہ اور اسود ان کے پاس پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے ایک حدیث سنائی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں ہی ان میں زیادہ نو عمر تھا، انھوں نے کہا کہ ہم نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہمارے پاس کچھ نہ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! …۔ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6830]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5066، ومسلم: 1400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4035»
وضاحت: فوائد: … ہم ایسے نوجوان تھے جن کے پاس نکاح کے اخراجات نہ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”، اے نوجوانو کے گروہ! شادی کرو۔ اگر شادی کی طاقت نہیں تو پھر روزہ رکھُوَ اس سے شہوت اعتدال پر رہتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5066
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6830 in Urdu