الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي التَّزَوجِ بِالْأَبْكَارِ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا لِمَصْلَحَةٍ فِي التَّيْبِ
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
حدیث نمبر: 6855
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَكَحْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتُقِيمُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری خاتون تھی یا بیوہ؟ میں نے کہا: جی بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے باپ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور سات بیٹیاں پس ماندگان میں چھوڑ گئے تھے،اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان جیسی ایک ناتجربہ کار کا اور اضافہ کر دوں، میں نے ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے کہ جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے درست کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6855]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15090»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15090
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6855 in Urdu