الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي التَّزْوِيجِ مَنْ ذِي الدِّينِ وَالْخُلُقِ المرضي وَإِنْ كَانَ فَقِيرًا أَوْ دَمِيمَ الْخِلْقَةِ
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
حدیث نمبر: 6858
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ مُطَوَّلًا وَفِي آخِرِهِ قَالَ ثَابِتٌ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ثَابِتًا قَالَ هَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا قَالَ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مذکورہ بالا روایت کی طرح، البتہ اس کے آخر میں ہے: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: انصار میں سے خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو۔ اسحاق بن عبد اللہ نے سیدناثابت رضی اللہ عنہ کو بیان کیا اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے کیا دعاء فرمائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی تھی: اے اللہ! اس پر بکثرت بھلائی ڈال دے اور اس کی زندگی کو محنت و مشقت والا نہ بنا۔ انصاریوں میں خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ مشہور اور خیر وبرکت والی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6858]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البغوي في ’’شرح السنة‘‘: 3997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20022»
وضاحت: فوائد: … ”اَیِّم“ اس خاتون کو کہتے ہیں، جس کا فی الحال خاوند نہ ہو، وہ بیوہ ہو یا کنواری۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا پاس و لحاظ رکھنے کے فیوض اور برکات ہیں۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا پاس و لحاظ رکھنے کے فیوض اور برکات ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6858 in Urdu