الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الْآبِ بِنتَهُ الشَّيْبَ أَوِ الْبِكْرَ الْبَالِغَ بِغَيْرِ رَضَاهَا
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6901
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے با پ نے ایسے آدمی سے اس کی شادی کر دی ہے، جس کو وہ ناپسند کرتی ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6901]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 2096، وابن ماجه: 1875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2469»
وضاحت: فوائد: … ولی کو مصلحت اور حکمت کے ساتھ بچیوں کے نکاح کے معاملات طے کرنے چاہئیں اور ایسی سبیل پیدا کرنی چاہیے کہ وہ بھی راضی ہو اور اس کی بچیاں بھی اسی کی رائے کو ترجیح دیتی ہوں، زبردستی کرتے ہوئے بچی کو بظاہر راضی تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی زندگی میں سکون نہیں لایا جا سکتا، بلکہ بعد میں اس لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین کو بھی سخت ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6901 in Urdu