الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسمَ صَدَاقًا ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ الدُّخُولِ
اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
حدیث نمبر: 6932
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يُفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَسُئِلَ عَنْهَا شَهْرًا فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا ثُمَّ سَأَلُوهُ فَقَالَ أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ يَكُ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَلَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالَ أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ قَالَ فَقَالَ هَلُمَّ شَاهِدَيْكَ فَشَهِدَ لَهُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ لایا گیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور وہ فوت ہوگیا، نہ اس نے حق مہر مقرر کیا تھا اور نہ حق زوجیت ادا کیا تھا، ایک ماہ تک ان سے یہ سوال کیا جاتا رہا، لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، بعد ازاں جب انہوں نے سوال کیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتاہے، اگر وہ خطا ہوا تو وہ میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہو گا اور اگر وہ درست ہوا تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوگا، اس عورت کو اس کی دوسری خواتین کی طرح حق مہر دیا جائے گا، اس کو میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی ہو گی۔ یہ فیصلہ سن کر بنو اشجع قبیلے کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے عبداللہ! تم نے جو فیصلہ دیا ہے، یہ بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فیصلہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیاتھا، عبد اللہ کہنے لگے: اس پر گواہ لاؤ، اشجع قبیلے کے ہی دو افراد جراح اور ابو سنان نے اس کے ساتھ گواہی دی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6932]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2114، وابن ماجه: 1891، والنسائي: 6/ 122، والترمذي: 1145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18651»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک ماہ تک اس مسئلہ پر غور کرتے رہے، اس میں اہل علم اور مفتی حضرات کے لیے بڑا اہم سبق ہے کہ ان کو نصوص میں غور و فکر کرنا چاہیے اور پیچیدہ مسائل میں فتوی دیتے وقت جلد بازی سے کام نہیں لیناچاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6932 in Urdu