الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابٌ فِي اللُّمَعَةِ وَالْمُوَالَاةِ وَالْحَثِّ عَلَى إِحْسَانِ الْوُضُوءِ
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے¤اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 696
عَنْ أَبِي رَوْحِ النَّكَلَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّومِ فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (إِنَّهُ يُلَبَّسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، إِنَّ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ) )
سیدنا ابو روح کلاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تردد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 2/ 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15969»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 2/ 156
Al-Fath al-Rabbani Hadith 696 in Urdu