الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَسْخِهِ وَالنَّهْي عَنْهُ
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6995
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ عَامَ أَوْطَاسٍ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوطاس والے سال متعہ کی رخصت دی تھی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6995]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16667»
وضاحت: فوائد: … اوطاس طائف میں ایک وادی کانام ہے،غزوۂ اوطاس اور فتح مکہ کے واقعات ایک سال میں پیش آئے، بلکہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ فتح مکہ رمضان ۸ میں اور غزوۂ اوطاس اگلے ماہ یعنی شوال رمضان ۸ میں، اس لیے غزوۂ اوطاس کے سال سے مراد فتح مکہ کا واقعہ ہے، کیونکہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دنوں کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر مکہ مکرمہ سے نکلنے سے پہلے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: ((فَاِنَِّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ حَرَّمَھَا عَلَیْکُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) … ”بیشک اللہ تعالی نے اس کو قیامت کے دن تک حرام قرار دیا ہے۔“ (حدیث نمبر (۶۹۹۲)کے آخر میںیہ الفاظ گزر چکے ہیں)
ذہن نشین رہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ متعہ کے حرام ہو جانے کی بات کو تاکیدا دوہرایا تھا،تاکہ سب لوگوں کو علم ہو جائے، جس روایت میں حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ کے حلال ہونے کا ذکر ہے، وہ خطا اور غلطی ہے۔
امام نووی نے کہا: صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ متعہ کی اباحت اور حرمت دوبار پیش آئی،یہ نکاح غزوۂ خیبر سے پہلے حلال تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرکے موقع پر اس سے منع فرما دیا، دوسری بار فتح مکہ کے موقع پر اس کو تین ایام کے لیے جائز قرار دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا۔
ذہن نشین رہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ متعہ کے حرام ہو جانے کی بات کو تاکیدا دوہرایا تھا،تاکہ سب لوگوں کو علم ہو جائے، جس روایت میں حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ کے حلال ہونے کا ذکر ہے، وہ خطا اور غلطی ہے۔
امام نووی نے کہا: صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ متعہ کی اباحت اور حرمت دوبار پیش آئی،یہ نکاح غزوۂ خیبر سے پہلے حلال تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرکے موقع پر اس سے منع فرما دیا، دوسری بار فتح مکہ کے موقع پر اس کو تین ایام کے لیے جائز قرار دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1405
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6995 in Urdu