🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب مَا جَاءَ فِي الطَّلَاقِ بِالْكِتَايَةِ
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7160
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ) ) فَقُلْتُ: وَمَا هٰذَا الْأَمْرُ؟ قَالَ: فَتَلَا عَلَيَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: 28] قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں: میں نے امام زہری رحمہ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کورہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیتا ہے، وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے، اس کے متعلق کیا رائے ہیں؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میں تجھ پر ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں،تو نے جواب دینے میں جلدی نہیں کرنا، بلکہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرنا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: بھلا یہ کونسی چیز ہے کہ میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جوبات میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے، یہی میں تمہاری دیگر سوکنوں پر پیش کرنے والا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لیکن میں نے جو چیز پسند کی ہے، اس کے بارے میں آپ نے میری سوکنوں کو نہیں بتانا۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری بیویوں پر یہی بات پیش کی اور سیدہ عائشہ نے جس کو اختیار کیا تھا، وہ بھی ان کو بتایا کہ عائشہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کو چن لیا ہے۔ تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا اورہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار کر لیا،لیکن اس کو طلاق شمار نہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7160]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4785، ومسلم: 1475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26033»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4785


Al-Fath al-Rabbani Hadith 7160 in Urdu